ٹاؤن پلاننگ سے محروم ملک کا سب سے بڑا شہر

  • Home
  • BLOG
  • ٹاؤن پلاننگ سے محروم ملک کا سب سے بڑا شہر

ماحول دوست اور کلائمیٹ فرینڈلی شہر ہونا چاہئے، ماہرین کی رائے

تحریر: حامدالرحمٰن

ٹوٹی سڑکیں ، بوسیدہ ٹرانزٹ سسٹم، دھواں چھوڑتی کھٹارہ گاڑیاں، ٹریفک کا اژدھام جہاں گرمی کی شدت میں اضافے کا سبب ہیں وہیں کنکریٹ کی بلند و بالا عمارتیں اور ٹاون پلاننگ نہ ہونا بھی موسمی تغیر کا سبب بن رہا ہے،

ماہرین ماحولیات اور ٹائون پلانرز کا کہنا ہے کہ کراچی کنکریٹ کا جنگل بن چکا ہے جہاں ٹائون پلاننگ ہی نہیں ہوتی ، دنیا بھر میں گرین بلڈنگ اسٹینڈرڈز کا خیال رکھا جاتا ہے لیکن یہاں جس کا جہاں دل چاہتا ہے عمارت کھڑی کرلی جاتی ہے،

ٹائون پلانر اور اربن ڈویلپمنٹ ایکسپرٹ فرحان انوار نے بتایا کہ کراچی کی بدقسمتی یہ ہے کہ اس کا کوئی پلان نہیں ہے ، ماضی میں ماسٹر پلان بنتے رہے ہیں اور آخری ماسٹر پلان مصطفیٰ کمال کے دور میں بنا تھا اور اس کا نام تبدیل کرکے اسے سٹی ڈویلپمنٹ پلان کردیا تھا،

ان کا کہنا تھا کہ یہ شہربے ڈھنگا بڑھتا چلا جا رہا ہے اور اس سب کے نتیجے میں ماحول پر بہت برے اثرات مرتب ہو رہے ہیں لیکن اس سب کے لیے ریسرچ کی ضرورت ہوتی ہے، ٹوئنٹی فور سیون اور سال کے 365 دن ڈیٹا جمع کرنا پڑتا ہے،

لیکن جو کچھ بھی ہو رہا ہے یہ ماحول کو خراب کرنے میں معاون ثابت ہو رہا ہے اور اس کے نتیجے میں عالمی حدت میں بھی اضافہ ہو رہا ہو،

کوئی اسٹڈی یا ریسرچ نہ ہونے کی وجہ سے یہ نہیں بتایا جا سکتا کہ یہ ماحول کو کتنا متاثر کر رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمارے ہاں کوئی گرین ہائوس گیس انوینٹری ہی نہیں ہے، دنیا کے بڑے شہروں کی سالانہ گرین ہائوس گیس انوینٹری بنتی ہے کہ سالانہ کتنا گرین ہائوس گیسز کا اخراج ہو رہا ہے،

فرحان انور کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت گرین لائن، ریڈ لائن اور یلو لائن کے منصوبے لا رہی ہے لیکن اس کے ساتھ شہر میں گاڑیاں بھی بھرتے جا رہے ہیں،

دنیا بھرمیں جب دوسرے موڈ آف ٹرانسپورٹ کی طرف جاتے ہیں تو آپ سڑکیں ایسی بناتے ہیں کہ لوگ پیدل چل سکیں، سائیکل چلا سکیں، آپ ایسے منصوبے بناتے ہیں کہ لوگ گاڑیوں کی حوصلہ شکنی کریں، ہمارے ہاں اس کا الٹا ہوتا ہے، ایک ریسرچ کے مطابق شہر میں روزانہ ایک ہزار گاڑیاں رجسٹرڈہوتی ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ہمارے ہاں کوئی پلان نہیں ہے ،ہمارے ہاں کوئی اسٹینڈرڈز نہیں ہے کہ اتنی گرین اسپیس ہونی چاہیے، شہر میں کتنے اور کس طرح کے درخت ہونے چاہئیں، کوئی پلان کوئی پروجیکٹ نہیں ہے،

انہوں نے کہا کہ ہمارے ہاں گھروں کی تعمیر ایسی ہے کہ روشن ہوتے ہیں نہ ہوادار، دن میں بھی لائیٹس، پنکھے اور اے سی چلا رہے ہیں،

اونچی عمارتوں نے ہوا کے قدرتی راستوں کو روک دیا ہے، دنیا بھر میں گرین بلڈنگ اسٹینڈرڈڈز آگئے ہیں، حتیٰ کہ ہمارے پڑوسی ملک انڈیا میں گرین بلڈنگ اسٹینڈرڈز کئی سال پہلے آگئے تھے، انڈیا ان پرانی چیزوں کو واپس لانے کی کوشش کر رہا ہے کہ گھر ایسے بنائیں گے دن میں بھی روشن اور ہوادار ہوں،

فرحان انور نے بتایا کہ گرین بلڈنگ اسٹینڈرڈز میں گھر ایسے ڈیزائن کرتے ہیں کہ آپ کو بجلی کم سے کم استعمال کرنی پڑے، اے سی، پنکھے، لائیٹس کم جلائیں، پانی کیسے کم استعمال ہو، انڈور ائر کوالٹی کو کیسے بہتر بناسکتے ہیں،

حکومت پالسیز بناتی ہے، وژن دیتی ہےکہ شہر کو کیسا ہونا چاہیے، انوائرمینٹلی اسٹرانگ، ماحول دوست اور کلائمیٹ فریندلی شہر ہونا چاہیے، اس وژن میں تمام اسٹیک ہولڈرز کو ساتھ ملائیں، اس وژن کے مطابق پالیسیز بنیں،

انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنی سوچ بدلنی ہوگی، ہماری سوچ بس پراجیکٹ بیس ہوتی ہے، جب تک پراجیکٹ بیسڈ اپروچ رہے گی کچھ بھی نہیں ہوگا، جب تک آپ ایک وژن اور پالیسی فریم ورک ڈویلپ نہیں کریں گے اس کے لیے ایک لانگ ٹرم سوچ کی ضرورت ہے، پولیٹیکل ول کی ضرورت ہے،

ان کا کہنا تھا کہ بہ حیثیت شہری وہ ٹرانسپورٹ ٹھیک نہیں کر سکتا لیکن اپنے محلے کو گرین تو کر سکتا ہے، وہ اپنے کچرے کو مینیج تو کر سکتا ہے، کچرے کو دوبارہ کیسے استعمال کر سکتے ہیں، ایک عام آدمی شہر کے گرین اسپیس کو بڑھا سکتا ہے ظاہر درخت لگانے سے تو کوئی نہیں روکتا، کنسزمشن لیول کو کیسے کم کرنے کی ضرورت ہے ، روز نئے کپڑے خریدنے کی ضرورت نہیں ہے۔

ماحولیات اور موسمی تغیرات کے ماہر، ایکولوجسٹ رفیع الحق نے سمائ ڈیجیٹل کو بتایا کہ گلوبل وارمنگ یا عالمی حدت میں اضافے کی وجوہات میں سب سے اہم گرین ہائوس گیسز کا اخراج ہے ، گرین ہائوس گیسز میں تین چار گیسز شامل ہیں لیکن سب سے کلیدی کردار کاربن ڈائی آکسائیڈاور کاربن مونو آکسائیڈ کا ہے،

انہوں نے کہا کہ گرین ہائوس گیسز کا جو کُل یومیہ ہے ٹوٹل گیسز کا اعشاریہ چار فیصد بنتا ہے، اس میں چار فیصد کاربن ہے اور کاربن کی مقدار زیادہ ہے، اس لیے کاربن پر زیادہ فوکس کیا جاتا ہے ، اس میں سلفر آکسائیڈ ہیں، نائٹروجن آکسائیڈ ہیں ، یہ سب وہ گیسز ہیں جو ہمارے پولر کیپ میں سوراخ کا باعث بن رہی ہیں، کلائمیٹ چینج یعنی موسمی تغیر کا سبب بن رہا ہے،

ایک موسمی تبدیلی تو وہ ہے جو ہمارے پاس چار موسم ہیں، سردی، گرمی، بہار اور خزاں، ہمیں معلوم ہے کہ دسمبر میں موسم سرد ہوتا ہے اس لیے گرم کپڑے نکال لیتے ہیں اور جون ، جولائی والے سیزن میں موسم گرم ہوتا ہے تو گرمی کی مناسبت سے نرم اور ہلکے کپڑے پہنے جاتے ہیں،

اگر سردی اور گرمیوں کے موسموں میں تبدیلی آنا شروع ہوجائے تو اسے موسمی تبدیلی کہتے ہیں یہ ایک دم سے نہیں ہوتا ہے بلکہ اس میں وقت لگتا ہے، زمین اب بہت تیزی سے ماحولیاتی تبدیلی کے دور سے گزر رہی ہے اور عالمی درجہ حرارت بڑھ رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس تبدیلی میں انسانی رویوں کا بہت عمل دخل ہے، پہلے ساٹھ فیصد دیہاتی آبادی اور چالیس فیصد شہری آبادی تھی لیکن اب یہ اُلٹ ہوگیا ہے زیادہ تر لوگ شہروں میں آباد ہوگئے ہیں،

ہم لوگوں نے اپنے بود باش تبدیل کر لیے ہیں، قدرت سے رابطہ کمزور کرلیا ہے اور مصنوعی زندگی زیادہ گزار رہے ہیں،

زندگی سہل بنانے کے چکرمیں خود کو مشینوں کے تابع کر لیا ہے، پہلے انسانوں میں برداشت کی صلاحیت زیادہ تھی جو اب کم ہوگئی ہے یہی برداشت کی صلاحیت بیماریوں سے لڑنے کا کام کرتی ہے،

رفیع الحق کا کہنا تھا کہ کمرے میں اے سی لگاکر آرام دہ زندگی تو ہے لیکن صحت مند نہیں ہے، صحت مند کب ہوگا جب آکسیجن کی مقدار ماحول میں 20 فیصد ہوگی،

اس کی مثال ایسے لے لیں امریکہ کا بہترین ہیلتھ سسٹم ہے لیکن اس کے باوجود کرونا سے وہاں کتنی زیادہ اموات ہوئی ہیں، ایسا کیوں ہوا، اس لیے کہ وہاں زندگی پُر آسائش ہے لیکن قدرت کے نظام سے دور ہیں،

بھارت میں کرونا وائرس سے اموات کی وجہ آبادی کا زیادہ ہونا ہے، دوسرا پھر اُن کے کچھ عقائد کی وجہ سے بھی ہے یعنی جیسے وہ گائو مُتر پیتے ہیں،

ان کا کہنا تھا کہ پہلے محلے اور گلیوں میں اکا دکا گاڑی ہوتی تھی لیکن اب گاڑیاں اتنی زیادہ ہوگی ہیں کے پارکنگ کے لیے جھگڑے ہوتے ہیں،

پہلے پبلک ٹرانسپورٹ استعمال ہوتی تھی، ماس ٹرانزٹ کا ایک سسٹم جیسا بھی تھا لیکن موجود تھا، وہ ختم ہوگیا،

اس کی وجہ سے کیا ہوا چنگچی اور موٹرسائیکل کی بھرمار ہوگئی ہے، گاڑیاں پہلے سے کہیں زیادہ ہوگئی ہیں،

درخت ہم نے کاٹ کاٹ کر ختم کردیے ہیں، گرمیوں کے سیزن میں ہمیں جوش چڑھتا ہے اور سب پلانٹیشن شروع کردیتے ہیں اور پھر اس کے بعد بھول جاتے ہیں کہ ان پودوں کو پانی کون دے گا ان کی رکھوالی کون کرے گا،

انہو نے کہا کہ اس کے ذمہ کراچی اور سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹز ہیں جنہوں نے شہر کو تباہ کرنے میں پورا کردار ادا کیا ہے، پہلے 240 اسکوائر یارڈ کے گھر میں 33 فیصد حصہ خالی چھوڑنا ہوتا تھا تاکہ گھر میں وینٹی لیشن (ہوا کا گزر) ہوسکے،

لوگوں نے نہ صرف وینٹی لیشن ختم کی بلکہ پانچ فٹ آگے قبضہ کرلیا ہے لیکن اتھارٹیز کو کوئی فرق نہیں پڑتا،

فلیٹس بنتے جا رہے ہیں ہوا کے گزر کا کوئی بندوبست نہیں ہوتا ، اونچی اونچی عمارتیں بنتی جا رہی ہیں، لوگوں سے گیس بجلی اور طرح طرح کی این او سیز تو لی جاتی ہیں لیکن اس پر کوئی سوال نہیں ہوتا جو انسان کو آکسیجن کی ضرورت ہے، پر اسکوائر فٹ کے حساب سے اسے کہاں سے پورا کریں گے،

انہوں نے بتایا کہ ہمارے ہاں گرین اسپیس کا تصور صرف کاسمیٹک کردیاگیا ہے، اس پر سنجیدگی سے عمل کی ضرورت ہے،

دیکھیں درخت نہیں کاٹنے چاہئیں لیکن اگر درخت کاٹنا مجبوری ہوتو اس کی جگہ پھر آپ کو تین درخت لگانے ہیں اور درخت لگاکر تین سال تک اس کی دیکھ بھال کرنی ہوتی ہے، اس کے بعد وہ خود نمو پانا شروع کردے گا،

ایک انسان کو اوسطا آٹھ درختوں کی آکسیجن درکار ہوتی ہے، یعنی تین کروڑ کے شہر میں چوبیس کروڑ درخت ہونے چاہئیں،

رفیع الحق کا کہنا تھا کہ ہمارے ہاں صنعتی ترقی نہیں ہے اس لیے ہم اعشاریہ 8 فیصد ماحولیاتی آلودگی میں حصہ ملا رہے ہیں،

ہمیں سب سے پہلے بڑے شہروں میں ماس ٹرانزٹ سسٹم لانا چاہیے، کے سی آر پراجیکٹ سیاست کی نظر ہوگیا ، گرین لائن بس میں ایک گھنٹے میں گنجائش 30 ہزار مسافروں کی ہے اور ٹرام کی 15 ہزار مسافروں کی، گرین گیسز کا کاربن امپیکٹ بھی کم ہے،

اربنائزیشن کی وجہ سے ہوا میں نامناسب گیسوں کی مقدار بڑھ گئی ہے ، اس کے نتیجے میں لوگوں کو سانس اور آنکھوں کے مسائل بڑھ جاتے ہیں،

انہوں نے کہا کہ جس معاشرے میں سزا و جزا کا تصور ختم ہوجائے تو وہ معاشرہ بگاڑ کی طرف جاتا ہے اور یہی ہو رہا ہے،

جس شہر میں ہم رہتے ہیں یہاں انسانوں سے زیادہ کتے بڑھ گئے ہیں اور آپ انہیں اس لیے نہیں مار سکتے کہ یہ ایلیٹ کلاس کو برا لگتا ہے، ترجیحات کا مسئلہ ہے،

چیل،کوے اور کتے کچرے پر پرورش پاتے ہیں ، انسانوں نے اپنی طرح پرندوں کو بھی سہل پسندی کے لیے بنے بنائے گھونسلے بنانا شروع کردیے ہیں ،

ان کا کہنا تھا کہ اب پورشن سسٹم شروع ہو گیا ہے ، پہلے جو گھر تھا اس کی ضرورت کے مطابق سیوریج سسٹم تھا جب ایک فیملی کی جگہ 5 فیملیز اس گھرمیں آبسیں گی تو نالے اوور فلو ہی ہونگے، ہمیں ٹرانسپورٹ سسٹم بہتر کرنا ہوگا، اپنی بود و باش بہتر بنانی ہوگی اور رویے تبدیل کرنے ہونگے

ڈی آئی جی ٹریفک احمد نواز نے بتایا کہ 30 لاکھ گاڑیاں سالانہ رجسٹرڈ ہوتی ہیں، جس میں موٹرسائیکلیں، ہیوی وہیکل سب شامل ہیں،

ٹریفک کا سب سے زیادہ لوڈ ڈائون ٹائون میں ہے، کیونکہ صدر یہاں ہے، لوگ شاپنگ کے لیے یہاں آتے ہں، دفاتر یہاں ہیں،

کراچی میں ڈائون ٹائون سب ایک طرف ہے، باقی شہر 60 ڈگری پر ہے، اسی طرف 120 ڈگری پر سمندر ہے،

نوکری اور شاپنگ کے لیے لوگ ڈائون ٹائون آتے بھی ہیں اور پھر واپس جاتے بھی ہیں، یہ ایک بڑا مسئلہ ہے۔

انہوں نے کہاکہ اسی طرح جب لوگ شہر سے باہر جاتے ہیں تو نادرن بائی پاس، جناح برج، شارع پاکستان ، سپر ہائی وے، پورٹ قاسم سے جتنا سامان نکلتا ہے، انڈسٹریل زون سے بڑی تعداد میں ملازمین کا آنا جانا ہوتا ہے یہ سب باقی کراچی کو بھی متاثر کردیتے ہیں ،

شہر اتنا پھیل گیا ہے کہ اب انڈسٹریل زونز شہر کے اندر ہیں، یہی شہر میں بےہنگم ٹریفک جام کا سبب بنتا ہے۔

Tags:
Leave a Comment